9 مئی 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جناب علی اکبر صالحی نے مصر کے شہر شرم الشیخ میں ناوابستہ تحریک کے وزرائے خارجہ کے سترہویں اجلاس میں جو دو روز تک جاری رہے گا، کہا کہ صہیونی ریاست کا این پی ٹی معاہدے میں شمولیت سے انکار مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کئے جانے کیلئے ایران کی تجویز کو عملی جامہ پہنائے جانے کی راہ میں اہم ترین رکاوٹ ہے۔

ابنا: علی اکبر صالحی نے کہا کہ سنہ 2025 تک ایٹمی ہتھیاروں کو نابود کئے جانے کی نم کی مجوزہ تجویز اسی صورت میں عملی شکل اختیار کرسکتی ہے کہ اس سلسلے میں اس تحریک کے رکن ممالک سنجیدگی کے ساتھہ اپنی کوششیں جاری رکھیں ۔

وزیر خارجہ جناب علی اکبر صالحی نے این پی ٹی معاہدے کے دائرے میں بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے کاربند ہونے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس معاہدے کے تناظر میں اپنے جوہری حقوق سے استفادہ کرنے کا پختہ عزم رکھتا ہے ۔

ناوابستہ تحریک کے وزرائے خارجہ کا سترہواں اجلاس آج مصر کے شہر شرم الشیخ میں شروع ہوگیا ۔ اسلامی جمہوریہ ایران آئندہ اگست میں غیر جانبدار تحریک کے آئندہ سربراہی اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے اس تحریک کے بعد کے دور کی باضابطہ طور پر صدارت سنبھالے گا۔ اس رو سے شرم الشیخ اجلاس میں آئندہ سربراہی اجلاس کے بنیادی دستاویزات کی حیثیت سے کئے جانے والے فیصلے ایجنڈے میں شامل کئے جائیں گے ۔

ناوابستہ تحریک کے شرم الشیخ اجلاس میں غیر جانبدار تحریک کے 120 رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ اور نمائندوں کے ساتھہ ساتھہ دیگر 28 ملکوں اور مختلف بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے نیز اہم سیاسی و عالمی شخصیات منجملہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چئرمین بھی شریک ہیں ۔

شرم الشیخ اجلاس میں مختلف اور اہم سیاسی و اقتصادی اور اسی طرح علاقائی و بین الاقوامی مسائل منجملہ ایشیاء ۔ افریقہ اور جنوبی امریکہ کے مختلف مسائل اور اسی طرح انسانی حقوق کے علاوہ دیگر ترقیاتی مسائل نیز عالمی تبدیلیوں سے متعلق مسائل و موضوعات کا جائزہ لیا جائیگا ۔ نم سے موسوم غیرجانبدار تحریک،ایشیاء ۔

افریقہ اور لاطینی امریکہ کے 120 ملکوں پر مشتمل ایک عالمی تنظیم ہے اور یہ تحریک، در حقیقت کیوبا ۔ سابق یوگوسلاویہ ۔ ہندوستان ۔ مصر اور انڈونیشیاء جیسے ملکوں کی،1950 کے درمیانی برسوں کی سیاسی کوششوں کا نتیجہ ہے جو علاقائی و عالمی مسائل کو یکسو نظر سے دیکھنے کے مقصد سے قائم ہوئی ۔ اس رو سے دیگر ملکوں کے امور میں مداخلت نہ کرنا ۔ بڑی طاقتوں کے سیاسی اثر و رسوخ کے زیر اثر چند جانبہ فوجی معاہدوں میں شمولیت نہ کرنا ۔

رکن ملکوں کی آزادی ۔ اغیار کی آمریت،نسل پرستی،اور ناجائز قبضے کی مخالفت اس تحریک کے ابتدائی 25 رکن ملکوں کی مشترکہ آرزوں میں شامل رہی ۔ اس کے علاوہ پرامن بقائے باہمی ۔جارحیت و پہلے حملہ کرنے کی پالیسی کا مقابلہ ۔ حق خود ارادیت کی حمایت ۔ دیگر ملکوں کی قومی حاکمیت و آزادی اور یکجہتی کی حمایت بھی اس تحریک کے رکن ملکوں کے مقاصد میں شامل ہے ۔ جبکہ اقوام متحدہ کو مضبوط بنانا۔ بین الاقوامی تعلقات میں آزادی ۔

عالمی سطح پر کسی ایک کی آمریت ومن مانی کی مخالفت اور چند جانبہ پسندی کی حمایت نیز بین الاقوامی تعاون اور اسی طرح ہمہ جہتی ترقی کیلئے برابری کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرنا بھی اس تحریک کے ایجنڈے میں شامل رہا ہے ۔

اس وقت اسلامی جمہوریہ ایران سمیت دنیا کے 120 ممالک جو اقوام متحدہ کے دو تہائی رکن ملکوں پر مشتمل ہیں ناوابستہ تحریک میں رکنیت رکھتے ہیں ۔ سیاسی مبصرین کے نقطۂ نظر سے غیر جانبدار تحریک کے اجلاسوں کے فیصلے و بیانات اگر چہ دیگر ملکوں کیلئے قابل عملدرآمد نہ ہوں مگر وہ بین الاقوامی ڈھانچوں پر مرتب ہونے والے گہرے اثرات کے نتائج کے حامل ہیں ۔

اس نقطۂ نظر سے یہ تحریک گذشتہ نصف صدی کے دوران نشیب و فراز سے گذرنے کے تجربے کے ساتھہ عالمی فیصلوں پر اثر انداز ہونے والی ایک اہم تحریک ہے ۔ تاہم یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس تحریک کے رکن ممالک اس وقت عالمی تبدیلیوں کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں جس کا نمونہ ایک جانب شمالی افریقہ اور مشرق وسطی میں اسلامی بیداری کی لہر، تو دوسری جانب مغرب کے معاشی مسائل و بحران کے نتیجے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں ہیں ۔

تیونس ۔ مصر ۔ لیبیاء ۔ اور یمن میں حکومتوں کی تبدیلیوں سے نئی صورت حال پیدا ہوئی ہے تو بحرین ۔ اردن اور سعودی عرب میں صورت حال بحرانی بنی ہوئی ہے ۔ سعودی عرب نے،جو غیر جانبدار تحریک کا ایک رکن ملک بھی ہے بحرین میں فوجی مداخلت کرکے آل خلیفہ حکومت کی پالیسیوں کے بہت سے مخالفین کا خون بہایا ہے ۔

اس دوران صہیونی ریاست بھی شام ۔ لبنان اور فلسطین کی تحریک مزاحمت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی بدستور کوشش کررہی ہے ۔ جبکہ عراق بھی امریکہ کے برسوں کے قبضے کے بعد اس وقت نازک دور سے گذر رہا ہے اور افغانستان کو بھی اس ملک میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کے حسّاس مرحلے کا سامنا ہے ۔

چنانچےاس مجموعی صورت حال کے پیش نظر غیر جانبدار تحریک کی توانائیوں کے سہارے تمام مسائل و مشکلات کو حل کرنے کے تناظر میں علاقائی یکسوئی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیئے جانے کی ضرورت ہے مگر اس میں بھی دو رائے نہیں کہ اس مقصد کو بھی عملی جامہ پہنانے کیلئے خود اس تحریک میں بھی، جو اپنی پوری حیات کے دوران اندرونی و بیرونی عوامل کے زیر اثر مختلف قسم کی تبدیلیوں اور صورت حال سے دوچار ہوتی رہی ہے، یکسوئی کی ضرورت ہے ۔...............

/169